12

چین کی جدید انسدادِ وائرس ادویات ایڈز متاثرہ مریضوں کیلئے امیدکی کرن

(خصوصی رپورٹ):۔ 2017میں پیکنگ یونین میڈیکل کالج ہسپتال کے ڈائریکٹر برائے متعدی امراض پروفیسر لئی تھائی شینگ کی سرکردگی میں ایک 80سالہ ایچ آئی وی متاثرہ شخص کا بیجنگ میں پیکنگ یونیورسٹی پیپلز ہسپتال میں کامیابی سے کارڈیک سرجری یقینی بنائی گئی، لئی تھائیشینگ چین میں ایج آئی وی کے حوالے سے کلینکل اسپیشلسٹ کی شہرت رکھتے ہیں، انہوں نے پیپلز ڈیلی سے ایک خصوصی گفتگو کے دوران کہا ہے کہ چین میں ایچ آئی وی متاثرہ لوگوں کی لمبے عرصے تک زندگی ایک اہم ترین ایشو کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اس متعدی مرض کو اب نہ صرف کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ اب اسے ایک دائمی مرض کے طور پر ریگولیٹ بھی کیا جا رہا ہے، اب جدید تحقیقی اور طریقہ علاج سے یہ امر ممکن بنایا گیا ہے کہ ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کی زندگی کو کیسے طول دیا جا سکتا ہے، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اس مرض سے متاثرہ مریضوں کو درپیش دیگر مشکلات اور عوامل کا کیسے اور کیونکر ازالہ کیا جا سکے، کیونکہ بیشتر اسپیلشلسٹ انفیکشن ہسپتال ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کی سرجری کرنے کے اہل نہیں ہیں اوراور متاثرہ مریضوں کے متعدی امراض ان اسپیشلسٹ ہسپتالوں میں ہی ٹریٹ کیئے جا سکتے ہیں، (مہلک سے دائمی امراض)۔چین کے ہیلتھ کمیشن کے مطابق 2017میں اینٹی وائرل ٹریٹمینٹ کے حوالے سے 6,10,000ایچ آئی وی متاثرہ لوگوں کو رجسٹر کیا گیا، جبکہ سال 2012میں اس حوالے سے رجسٹر کیئے گئے مریضوں کی تعداد1,71,000تھی، جس کے تحت کوریج کی شرح اسی فیصد جبکہ ممکنہ کامیابی کی شرح نوے فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ لئی تائیشینگ نے چین۔فرانس اشتراک سے جاری ایک سیمنار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایڈز آج تحقیقی اور طریقہ علاج سے بلڈ پریشر اورشوگر کی طرح ایک متعدی مرض کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، آج ایک ایچ آئی وی متاثرہ شخص ادویات استعمال کرنے سے کئی عشروں تک زندہ رہ سکتا ہے،لئی تھائیشینگ 1983میں پیکنگ یونین میڈیکل کالج ہسپتال میں بطور ایک ٹرینی ڈاکٹر کے کام کرتے رہے ہیں، واضح رہے کہ 1985میں پیکنگ یونین میڈیکل کالج ہسپتال نے چین میں پہلے ایچ آئی وی متاثرہ مریض کو ریسیو کیا، اور اس وقت سے ہر مہینے بیشتر متاثرہ مریض اس مرض سے وفات پا جاتے، کیونکہ اس وقت تک اس مرض سے بچاؤ کے حوالے سے کوئی ادویہ دنیا میں موجود نہیں تھی، لئی نے کہا کہ وہ وقت ایسا تھا کہ گویا ہمارے ہاتھ بندھے ہو اور ہم مریضوں کو مرتے دیکھنے کے سوا کچھ نہ کر سکتے۔ اس وقت اس مہلک مرض کا خوف بھی بہت زیادہ تھا، اور خوف کی بنیادی وجہ اس مہلک مرض کی کوئی دوائی نہ ہونا ہی تھا، اور اس مرض سے متعلق دوائی سے نا واقفیت ہونے کی وجہ سے متاثرہ مریضوں کے مرنے کی شرح سو فیصد تھی، بیجنگ یوآن ہسپتال کی ہیڈ نرس سے اپنی یادداشتیں بانٹتے ہوئے کہا کہ 1990میں جب ان کے ہسپتال میں پہلا HIVمتاثرہ شخص ایڈمٹ کیا گیا پورے ہسپتال میں ایک خوف کی فضا قائم تھی، اس متاثرہ مریص کی وارڈ میں کوئی ڈاکٹر اور نرس خوف سے داخل نہیں ہوتے تھے، اور وارڈ کے دروازے سے متصل ایک کھڑکی کو متاثرہ مریض کے سیمپل، اور روزانہ کی خوراک اور ادویہ دی جاتی تھی، اور جب اس متاثرہ مریض کاانتقال ہوگیا تو ایک کھلی جگہ پر اس مریض کے زیرِ استعمال ہر چیز کو آگ لگائی گئی، اور آگ سے غیر متاثرہ اشیاء کو بیکٹیریا کش معلول سے دھویا گیا، اس کے علاوہ مریض کے وارڈ کو پیراسیٹک ایسیڈ سے دھویا گیا، دوسری جانب اس وقت ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کو اس حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ ایک تو ادویا ت ناپید دوسری بہت مہنگی، متاثرہ مریض کے لیے ایک بنیادی بوتل کی قیمت ڈیڑھ ہزار ڈالر سے زائد تھی جو کسی طور متاثرہ مریص کے لواحقین کے لیے خریدنا ممکن نہیں تھا، 1998میں بیجنگ یوآن ہسپتال میں ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کے لیے انتہائی فعال اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کا آغاز کیا گیا، جسے کوکٹیل تھراپی بھی کہا جاتا تھا، جو بنیادی طور پر تین سے زائد اینٹیوائرل ڈرگس کا اشتراک تھا، تاکہ متاثرہ مدفعاتی نظام کو بحال کیا جا سکے، اور متاثرہ لوگوں میں زندگی کو طول یقینی بنایا جا سکے، اس حوالے سے1998میں جن پانچ لوگوں کو اس تھراپی کے زریعے سے علاج کیا گیا، آج وہ لوگ ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں، تاہم یہ تھراپی مہنگی ادوایات اور نا پید اینٹی وائرل ڈرگس کی وجہ سے بہت مہنگا تھا، لئی نے کہا کہ 2004تک چین میں ایچ آئی وی متاثرہ مریضوں کے لیے کوئی مفت ادویات میئسر نہیں تھیں، تاہم بعد ازاں متاثرہ کو مفت ٹیسٹنگ سہولیات، ٹریٹمینٹ اور ادویات فراہم کی جانے لگیں۔ 2005میں لئی تھاشینک کی سربراہی میں ملک بھر میں ایچ آئی وی کلینکل ٹریٹمینٹ سینٹرز کا آغاز کیا گیا، اور مختلف مریضوں کا علاج کرتے ہوئے لئی نے دو ادویات کا ایسا اشتراک تخلیق کیا جو متاثرہ چینی مریضوں کو بہت ہدف تک فاہدہ پہنچا رہا تھا، لئی نے کہا کہ گزشتہ کئی عشروں سے وہ ان مفت ادویات کے متاثرہ چینی مریضوں پر اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، اور جلد چینی متاثرہ مریضوں کو یقین ہو گیا کی چینی مقامی ادویات کا اتنا ہی تیزی سے اثر ہو رہا ہے جس قدر تیزی سے غیر ملکی ادویات کا ، اس حوالے سے لئی تھائیشینگ نے ان تجربات کو ایک منظم انداز میں اکھٹا کیا، اور اس مرض سے متعلق تمام مواد جو انہوں نے مختلف ریسرچ اور کتابوں سے اکھٹا کیا تھا، اور ایک متحرک نیٹ ورک کے زریعے سے اس تحقیقی کام کو ملک کے دیگر داکٹرز تک پہنچایا، اور دنیا کے دیگر ڈاکٹرز تک اس تحقیق اور ریسرچ کو پہنچایا، اس نیٹ ورک کے قیام کے ساتھ ایک انتہائی فعال پیشہ ورانہ کلینکل ٹیم بھی تخلیق کی گئی، اور ملک میں اس مرض کے متاثرہ لوگوں کو اس ٹیم اور نیٹ ورک نے موثر انداز میں کنٹروک کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، چین میں ایڈز سے متعلق عام کنٹرول پر ریسرچ کا آغاز 2002سے ہوا، تاہم آغاز میں چین کی مقامی ادوایات کے بہت سائیڈ اثرات ریکار ڈ کیئے گئے، لئی نے چینی لوگوں کی طبیعتی اثرات کو دیکھتے ہوئے دیگر ممالک کو دی جانیوالی انہی ادویات سے موازنہ کیا، اس کیساتھ انہوں نے نوٹ کیا گی دیگر ممالک کے برعکس چین میں متاثرہ مریضوں کو ایچ آئی وی کیساتھ ہیپاٹاٹئتس سی بھی ہوتا ہے، دوسری جانب عالمی سطع پر EFVجسے ایل گولی کیساتھ 600ملی گرام کی ممقدار میں دیا جاتا تھا اگر یہ ہی مقدار چینی متاثرہ لوگوں کو دی جاتی انہیں چکر آتے اور انکے بلڈ میں فیٹس کی مقدار میں اضافہ ہونے لگتا، یوں لئی کو اندازہ ہوا یورپ اور امریکہ کے لوگوں کے برعکس چینی متاثرہ لوگوں کو اس ٹیبلٹ کی چار سو ملی گرام مقدار مقرر کی گئی، یوں شنگھاہی میں قائم ایک فیکٹری نے اس نئی مقدار کے مطابق ادوایا اور گولیوں کی مقدار نئے انداز مں شروع کی، اس پیش رفت کو چین کی دس میڈیکل رپورٹس میں اجاگر کیا گیا، اور 2019تک اس طریقہ کار کو پچاس ہزار سے ائد لوگوں پر جاری رکھا گیا ہے، اسی طرح زیڈووڈین کے بارے تحقیق سے پتہ چلا کہ اس کے استعمال کے چھ ماہ بعد بون میرو ٹرانسپلانٹ کو روکتی ہے جبکہ اسٹیووڈین استعمال کے ایک سال بعدلیپو ایتروفی کا سبب بنتی ہے، اس ھوالے سے ایک متبادل تھراپی متعارف کروائی گئی جس کے مطابق زیڈوڈین متاثرہ مریضوں کو سائیڈ ایفیکٹ کے آغاز سے پانچ ماہ قبل استعمال کرائی جاتی، اس کے بعد انہیں اسٹیوڈین شروع کروائی جاتی اور چھ ماہ بعد وہ پہلی میڈیسن کی جانب لوٹ آتے، یوں سائیڈ ایفیکیٹ کے اثرات سے بچتے ہوئے علاج کو یقینی بنایا گیا، ا س طرح اس تھراپی سے بیس ہزار سے زائد مریضوں کا کامیابی سے علاج کیا گیا، یوں ممکنہ سائیڈ ایفیکینٹ نہ ہونے کی شکایت سے مریص اس تھراپی پر جلدی راضی ہوئے جس سے مریضوں کی زندگی میں کوالٹی آف لائف بہتر ہوئی، اب اس حوالے سے تحقیق جاری ہے کہ تاثرہ مریضوں کو بہتر لائف کیسے یقینی بنائی جا سکے۔ لئی نے کہا کہ حال ہی میں پیکنگ یونین میڈیکل کالج میں ایک ایچ آئی وی متاثرہ مریص کو کورونری بائی باس کی ایمرجنسی کیساتھ لایا گیا تاکہ اسکی زندگی بچائی جا سکے، تاہم متعلقہ اسپیلائزڈ ہسپتال نے سرجری کرنے سے انکار کر دیا ، تاہم میری سفارش پر دیگر ڈیپارٹمینٹس کے ڈاکٹر تیار ہوئے جو کامیابی سے حل ہوا، اس طرح سے چین میں ملکی سطع پر ایڈز سے متاثرہ مریضوں کے لیے ایک الائینس بنایا گیا ہے، تاکہ ممکنہ سرجری سے متعلق مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اور یہ الائینس مستقبل میں ایڈز کے مریضوں کے علاج کے حوالے سے ایک معاون فورم، کلینکل ریسرچ اور ٹریننگ مقاصد کیلیے استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں