54

اصلی ہیرو

ہیرو جیسے لفظ کو سنتے ہی ہمارے دماغوں میں اک خوبصورت,نوجوان,چنچل اور ,بھڑکیلی سی شخصیت دندنانے لگتی ہے۔
پاکستان میں یوں تو بے شمار ہیرو ہیں جو کوئ موسیقی کی دنیا سے وابستہ ہے تو کوئ فلمی اور کھیلوں کی دنیا سے لیکن پاکستان کے اک ایسے ہیرو جو انسانیت کی دنیا سے وابستہ تھے۔جن کی مثال آج کی دنیا میں ملنا ناممکن ہے جو خدمت کو اپنا فرض اور انسانیت کو اپنا دین سمجھتے تھے
وہ ہیرو جن کی مقبولیت اور شہرت کے چرچے پوری دنیا میں ہیں۔جو پاکستان کے ہیرو کی فہرست میں نمبر ون ہیں عبدلستار ایدھی ہی وہ فخر وطن ہیں۔جنھوں نے لوگوں کو انسانیت کا معنی بتایا
وطن عزیز کے نامور شخصیات کی لسٹ بنائیں تو عبدالستار عیدھی کا نام سب سے پہلے زہن میں آتا ہے۔یہ صرف پانچ فٹ لمبے اور ساٹھ کلو وزنی انسان نہیں بلکے پاکستان کا دریائے انڈس ہیں جو کہ پاکستان کی زمین کو سیراب کرتا ہے اور ہماری زمین سونا اگلتی ہے۔
یہ وہ فخر وطن ہیں۔ جب پاکستان دہشت گردی کے مسئلہ سے دوچار تھا اور پوری دنیا میں پاکستان اک دہشت ملک کہلایا جا رہا تھا تب یہی وہ انسان تھےت
عبدلستار عیدھی 1928 کو بھارت کے شہر بتوا میں پیدا ہوئے۔مگر ۱۹۴۷ کے بعد انکا خاندان ہجرت کر کے کراچی آگیا۔بچن سے ہی یہ لوگوں کی خدمت ک اپنا فرض سمجھتے اور خوشی محسوس کرتے تھے انکی ماں انکو اسکول کیلیئے دو پیسے دیتی تھیں جس میں سے ایک پیسہ وہ خود استعمال کرتے اور ایک کسی ضرورت مند کو دے دیتے ۔گیارہ برس کی عمر میں انھوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیا بطیس میں مبتلا تھیں۔چھوٹی عمر سے ہی انھوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا۔جو زندگی کی کامیابی کی کنجی بنا
بنیادی طور پر یہ ایک کاروباری برادری سے تھے۔مگر انھوں نے اپنا آبائ کام کو ترک کر کے خدمت خلق کا بارگراں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ایک ایسا واقع جس نے سہی معینوں میں انکی زندگی بدل دی۔اک بار وہ کپڑا خریدنے بازار گئے تو انھوں نے دیکھا چند لوگ اک شخص کو چاقو سے مار کر بھاگ گئے اور لوگ تماشا دیکھتے رہے انھوں نے سوچا نہ میں چاقو مارنے والا بننا چاہتا ہوں او نہ ہی تماشا دیکھنے والا انھوں نے اپنے کپڑے کا کاروبار ترک کر کے اپنی جمع پونجی سے ایک ایمبولینس خرید لی۔دن ہو یا رات آندھی ہو یا طوفان اک فون کال کے آتے ہی مدد کیلئے چلے جایا کرتے تھے۔
ان کے نزدیک محنت,خدمت اور سادگی ہی زندگی ہے۔ ۲۰۱۱ اسلام آباد کراچی کمپنی میں پہیلی بار اس فخر پاکستان کو دیکھا جو ہر عام و خاص سے مصافحہ کر رہے تھے۔ میں نے بھی ان سے مصافحہ کیا۔وہ نہایت ہی دھیمی اور سادہ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے پاوں میں پالاسٹک کی چپل تھی۔اور جسم پر بہت ہی معمولی سے کپڑے تھے ہاتھ میلے تھے۔ایدھی صاحب نے پوری زندگی مردوں کے کپڑے اور جوتے پہنے لواحقین بھی مردوں کی ذاتی اشیا۶ استعمال نہ کرتے تھے۔انکا ایک جوڑا دو سال نکال جاتا تھا۔ہفتے میں ایک بار نہاتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک پانی اک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے۔
یہ وہ فخر عظیم شخصیت ہیں جو آج کے اس بے ہس دور میں جب بھائ بھائ کا نہیں بنتا,جب باپ بیٹے پر یقین نہیں کرتا,جب بد بخت ماں باپ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو کبھی سڑک کے کنارے تو کبھی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک آتے ہیں,جہاں خون سستا اور پانی مہنگا ہو,جہاں قتل عام ہو,جہاں دن دیہاڑ ے لوگ لوٹلیے جاتے ہوں ,غریب اک وقت کی روٹی کو ترستا ہو اور جہاں گاڑیوں میں پٹرول کی جگہ غریبوں کا خون دوڑتا ہو تو اس نے ایسے معاشرے میں صرف انسانیت کی بات کی۔
یہ وہ شخص تھا جو غریبوں کا سہارا,یتیموں کا باپ تھا۔
اس نے بے سہارا کو دیکھا تو ایدھی ہوم بنا لیا,نوزائیدہبچوں کو دیکھا تو جھولا رکھ لیا,حاملہ عورتوں کیلیئے میٹرنٹی ہوم بنا لیئے,اسکے علاوہ اور بھی بہت سارے فلاحی کام سر انجام دیئے۔
انکے کارناموں کو خراج تحسین پیش کرنا بہت مشکل ہے۔
انھوں نے پاکستان کا سر پوری دنیا میں فخر سے بلند کر دیا جب گیتا نامی بھارتی بچی کو اا برس تک ایدھی سینٹر میں پورا تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسکی پرورش کی اور امن کی مثال قائم کرتے ہوئے بھارت کے سپرد کیا۔
یہ تھے عبدالستار ایدھی صاحب مگر بابائے خدمت کے ساتھ ۱۹ اکتوبر ۲۰۱۴میں پیش آنے والے شرمناک واقع نے روح تک کو تڑپا دیا تھا۔اس دن ۸مسلح ڈاکوں صبح ۱۰ بجے کھارا دران کے دفتر میں داخل ہوئے ایدھی صاحب کے سر پر پستول رکھی۔ان کے سب لاکرز توڑ کر پانچ کلو سونا اور کروڑوں روپے کے غیر ملکی کرنسی لے کر فرار ہو گئے۔ہاں یہ وہی معاشرہ ہے جہاں خود انسان کی خدمت کیا کرنا بلکہ انسانیت کی خدمت کرنے والے شخص کو بھی دن دیہاڑے لوٹ کر لے گئے۔ اس شخص ک جو اپنی خود کی ذات پر دوسروں کو فوکیت دیتا تھا۔ہم اس بد نصیب معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں غریبوں,بے سہارا,اور یتیموں کا حق تک محفوظ نہیں ۔یہاں ایک ایک کر کے سب لوٹ لیے جایئں گے ۔دیمک لگی دہلیزیں انسان ہو یا فرشتہ کسی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں اور ہم دیمک زدہ معاشرے میں رہتے ہیں
ہمت مرداں مرد خدا ایدھی صاحب نے انسانیت کی خدمت کا کام جاری رکھا۔
ایدھی صاحب گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے جس کی بناپر ۸ جولائ ۲۰۱۶ میں دم توڑ گئے اور ایدھی گاؤں کراچی میں ۲۱ توپوں کی سلامتی کیساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔
وہ آخری سانس تک غریبوں,یتیموں,اور بے سہارا لوگوں کی مدد اور خدمت کرتے رہے۔
انکے آخری الفاظ بھی یہی تھے کہ “میرے ملک کے غریبوں کا خیال رکھنا” اور انکی خاہش کے مطابق انکی آنکھیں عطیہ کر دیں گیئں ۔
وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ اور ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ انکو جنت میں اعلی درجات عطا کرے آمین۔
زنیرہ رفی (نمل یونیورسٹی اسلام اآباد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں