42

چین کے مستحکم اقتصادی اعدادوشمار غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پر کشش

(خصوصی رپورٹ):۔ چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹسکس کی جانب سے رواں ماہ نومبر میں ایک پریس ریلیز میں چینی معیشت کی گزشتہ ایک ماہ کے حوالے سے معاشی اعدادوشمار جاری کیئے گئے جن کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں چینی میعشت مستحکم انداز میں شرح نمو کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اس حوالے سے جن نمایاں اقتصادی اعدادوشمار کو پیشِ نظر رکھا گیا ان میں پیداواری عوامل، مجموعی طلب و رسد، روزگار کے مواقع، بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں اور ایڈجسٹمنٹس کو مدنظر رکھا گیا اس طرح سے ان عوامل کیمطابق معیشت کو تین بنیادی خصوصیات میں تقسیم کیا گیا، اس حوالے سے مجومعی طور پر اکتوبر کے مہینے کے لیے ملک کی اقتسادی طلب اور پیداوار مستحکم رہی ہے، جبکہ اسی مدت کے حوالے سے صنعتی پیداوار کے حوالے سے قائم ہدف میں خاصا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے، جس میں سالانہ کی بنیاد پر5.9فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سروسز سیکٹر کے حوالے سے پیداواری انڈیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.2فیصد کے تناسب سے آگے بڑھ رہا ہے، اسی طرح سے چین میں سرمایہ کاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے حوالے سے سرمایہ کاری کی شرح میں 5.7فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور رواں مالی سال کی پہلی تین سہ مایوں میں اضافے کی شرح اعشاریہ تین فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ دو ماہ میں نمایاں اضافے کیساتھ بڑھ رہی ہے، اسی طرح جاری اعدادوشمارکے مطابق ملک میں درامدات اور برامدات کے شعبوں میں نمایاں اجافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، صرف اکتوبر کے مہینے میں برامدات کی شرح میں بیس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ ماہ کے تناسب سے 3.2فیصد زائد ہے، اسی طرح درامدات کے شعبے میں اضافہ26.3فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ ماہ کے تناسب سے 8.8فیصد زائد ہے، دوسری جانب ملک میں اکتوبر کے مہینے کے لیے روزگار اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں استحکام رہا، گزشتہ ماہ ملک کے شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 4.9فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ ملک کے 31بڑے شہروں میں یہ شرح 4.7فیصد رہی ہے، اسی طرح بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس تناسب سے گزشتہ چار ماہ میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے، اس طرح سے قیمتوں میں طلب اور رسد کے حوالے سے اس مدت کے دوران ایک مستحکم توازن ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح ساختی ایڈ جسٹمنٹ کی شرح اکتوبر کے مہینے کے لیے ترقی پزیر رہی ہے، جبکہ صنعتی پیداوار کی شرح درمیانے اور چھوٹے عوامل کے حوالے سے تیزی سے آگے بڑھی ہے، اور سالانہ اعتبار سے اعلی ٹیکنالوجی کی حامل مینو فیکچرنگ انڈسٹری کی مجموعی شرح میں 12.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں ستمبر کے مقابلے میں 1.2فیصد اجافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، جب کہ گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں ابھرتی صنعتوں کی شرح نمو میں 10.1فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، رواں سال میں جنوری کے مہینے سے اکتوبر تک اعلی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں 16.1فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اعلی ٹیکنالوجی کے حوالے سے سروسز کے شعبے میں یہ اضافہ 11فیصد ریکاڑڈ کیا گیا ہے، اسی طرح صارفین کے سامان کی مجموعی ریٹیل فروخت کی شرح رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں کافی حد تک مستحکم رہی ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران مواصلات سے متعلق آلات اور کاسمیٹکس کی شرح گروتھ دوہرے اعداد میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ چین کی نیشنل بیورو آف اسٹیٹکس کے ترجمان لیؤ ایوا نے کہا کہ چین کے حالیہ اعدادوشمار نے ان تمام مغربی ناقدین کو جواب دیدیا ہے جو گزشتہ کچھ ماہ سے پراپیگنڈہ کر رہے رہیں ہیں کہ چینی معیشت زوال کی جانب گامزن ہے، رواں مالی سال میں جنوری سے اکتوبر کے مہینے تک چین کے اقتصادی اعدادوشمار مستحکم انداز میں پروان چڑھتے رہے ہیں۔ جبکہ مستحکم اقتصادی آپریشن کے حوالے سے تمام عوامل مستحکم انداز میں ریکارڈ کیے گئے ہیں، دوسری جانب دیگر بنیادی اقتسادی عوامل بشمول پیداواری امور، روزگار سے متعلق طلب، کنزیومر پرائس، اور بین الاقوامی ادائیگیوں سے متعلق تمام عوامل اور امور مستحکم انداز میں ریکارڈ کیئے گئے ہیں ، دریں اثناء دیگر مثبت اقتصادی عوامل مزید مستحکم ہو رہے ہیں جن میں جدید ساختی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں اور مجوعی طور پر معیشت کے معیار اور منافع کی شرح میں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے، آج چین کے پاس طویل مدتی ڈیویلپمنٹ کو یقینی بنانے کے لیے تمام مواقع اور زرایع موجود ہیں چینی نیشنل بیورو آف اعدودشمار کے ترجمان نے کہا کہ چین آج ایک بڑی مارکیٹ کا حامل ملک ہے جو ملک کی 1.3بلین لوگوں کی ضروریات پوری کر رہی ہے، اور ملک میں مڈل انکم گھرانوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے،اسی طرح چین کی مارکیٹ کی کھپت میں ہر گزرتے دن کیساتھ تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، چین کے پاس ایک مستحکم صنعتی نظام موجود ہے اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو ساتھ ملا کر چین آج تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور چین کی مرکزی حکومت کی جانب سے سپلائی سائیڈ کے شعبوں میں مزید مربوط اصلاحات کے عمل سے مصنوعات کے معیار اور کوالٹی میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے، جس سے نہ صرف مقامی سطع پر لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آ رہی ہے بلکہ مصنوعات کی کوالٹی اور معیار میں بھی بہتری سامنے آ رہی ہے، چین ایک کثیر آبادی کا ملک ہونے کے باعث ایک بڑی لیبر قوت بھی رکھتا ہے چین کی مجموعی لیئبر استطاعت900ملین لوگوں پر مشتمل ہے اور اس لیبر فورس میں سے 170ملین ایسی لیبر فورس بھی ہے جس کو اعلی ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم بھی حاصل ہے، ان عوامل کیساتھ چین کی میکرو پالیسز مثبت اندا زمیں پروان چڑھ رہی ہے، چین میں مہنگاہی کی شرح کم ہے اس حوالے سے مالیاتی خسارہ کی شرح بھی کم رہتی ہے، اور چینی حکومت پر قرضوں کی شرح میں محدود سطع پر ہے جبکہ غیر ملکی زرِ مبادلہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہ تمام عوامل مستحکم میکرو پالیسز کی نشاندہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں