56

بیلٹ ا ینڈ روڈ پروگرام چائینیز اور غیر ملکی کمپنیز کو یکساں فوائد پہنچائے گا۔بزنس ایگزیکٹویز

(خصوصی رپورٹ):۔ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام اور اس سے منسلک ڈیویلپمینٹ منصوبوں سے نہ صرف چینی بلکہ غیر ملکی کمپنیز یکساں انداز میں فائدے حاصل کریں گیں، اس حوالے سے بیشتر غیر ملکی کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے رواں ماہ 15نومبر کو ایک پروگرام کے موقع پر کہا، انکا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے آغاز سے مشترکہ ڈیویلپمنٹ اور عملی تعاون کے سینکڑوں مواقع چایئنیز اور غیر ملکی کمپنیز کو میسر آئیں گے اور عملی تعاون کی مدد سے انہیں ترقی اور ڈیویلپمینٹ کے بہت سے مواقع میسر آئیں گے، جس سے نہ صرف انکی کمپنیز کو گروتھ، مارکیٹ استطاعت حاصل ہوگی بلکہ انکی کمپنیز کی عالمی سطع پر اس طرح سے مثبت ساکھ پیدا ہوگی، غیر ملکی انٹر پرائسز کے سی ای اوز نے چین کی اسٹیٹ آفس کی انفارمیشن آفس کی جانب سے منعقدہ ایک پریس بریفینگ میں بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو غیر ملکی کمپنیز کی ترقی اور مارکیٹ پھیلاؤ کے حوالے سے ایک مثبت امر قرار دیا ، پریس بریفنگ میں شریک ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر برائے یونانی پائیریس پورٹ اتھارٹی اینجلس کاروکوسٹس نے کہا کہ یونانی عوام چین اور یونان کے مشترکہ تعاون سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو بہت خوش آئیند قرار دیتی ہے اور دونوں ممالک کے مابین باہمی اور عملی تعاون کے فروغ کے حوالے سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو بھر پور انداز میں سپورٹ کر رہی ہے،
چین کی سب سے بڑی شیپنگ کمپنی COSCOباہمی تعاون کے سبب پائرسIIاور پائرس III پر2008سے پائرس کنٹینرٹرمینل پر امدادی کام سر انجام دے رہی ہے جس سے اس کی اسطاعت میں نمایاں اضافہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں یونانی بندرگاہ کی اسطاعت میں چینی تعاون کے باعث نمایاں اضافہ ہوا ہے اس یونانی پورٹ کی اسطاعت گزشتہ سال2017میں 4.15TEUکا اضافہ ہوا ہے، جو 2008میں محض8,80,000TEUتک محدود تھی، ڈپٹی ایگزیکٹو نے امید ظاہر کی کہ آئیبندہ چند سالوں میں یونانی پائرس بندرگاہ بیحرہ روم میں سب سے بڑی بندرگاہ بن جائیگی جبکہ یورپ میں یہ بندرگاہ چوتھی بڑی بندرگاہ ہوگی، اسی طرح بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے حوالے سے کینیا میں ممباسہ۔نیروبی ریلوے نیٹ ورک کا کام تکمیل پا چکا ہے۔،یہ پراجیکٹ چین کی تعمیراتی ریاستی کمپنی چائینہ کمیونیکیشنزکنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے تیار کی جا رہی ہے، اور کینیا میں گزشتہ ایک صدی میں یہ پہلا بڑا ریلوے نیٹ ورک منصوبہ ہے جو چین کے تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اس حوالے سے کینیا سے اس ریلوے پراجیکٹ کے وائس ڈائریکٹرجیمس میکوگا کرانٹے کا کہنا ہے کہ ممباسہ۔نیروبی ریلوے ٹریک کی تعمیر سے مقامی سطع پر46,000ملازمتیں تخلیق ہوئی ہیں ، اور اس منصوبے سے کینیا کی مجموعی پیداواری شرح میں 1.5فیصد کا ضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، اس ریلوے نیٹ ورک میں گزشتہ سال31مئی2017کو ریلوے ٹریفک کا آغاز ہو ا اور اب تک دو ملین مسافر اس ریلوے نیٹ ورک سے استعفادہ کر چکے ہیں اور اور اکتوبر کے اختتام تک دو ملین ٹن کارگو اس ریلوے نیٹ ورک کے زریعے منتقل کیا جا چکا ہے، ہنگری کیمیکل پروڈیوسرBorsodshenکو 2011میں چائینہ کیمیکل وینیوا گروپ نے اپنی تحویل میں لیا اور اس وقت سے اب تک اس کمپنی نے 2015کے بعد سے نمایاں اور ریکارڈ منافع یقینی بنایا ہے، اس حوالے سے اس کمپنی کے نائب صدر برائے انسانی وسائل بیلا ورگا نے کہا ہے کہ نا صرف کمپنی نے منافع کے حوالے سے اہم اہداف حاصل کیئے ہیں بلکہ اس کمپنی میں مقامی سطع پر تین ہزار ملازمتیں بھی تخلیق کی گئی ہیں جس سے مقامی آبادی استعفادہ کر رہی ہے، ہنگرین کیمیکل پروڈیوسر کو جس طرح سے وہنیوا چائینہ نے سنبھالا ہے یہ امر اور حکمتِ عملی بہت کامیاب رہی ہے، اور اس کے لیے کنگری کیمیکلز وینہوا چائینہ گروپ کے مشکور ہیں ، بورشوڈ کیملیز کی مالیاتی سورتحال اس قدر مسائل سے دوچار تھی کہ یہ چائینہ وین ہوا گروپ کی تحویل میں آنے سے پہلے گزشتہ مسلسل تین سالوں سے نقصان میں چل رہا تھا، اس طرح سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام اور اس کے منسلک منصوبوں کے حوالے سے چینی کمپنیز نے نہ صرف غیر ملکی کمپنیز کا اعتماد حاصل کیا ہے، بلکہ ان غیر ملکی کمپنیز کو چین کی بڑی مارکیٹ تک رسائی مہیا کر کے ان کمپنیز کے کاروباری پوٹینشل میں کئی گنا اضافہ یقینی بنایا ہے، جس سے ان غیر ملکی کمپنیز کو بین الاقوامی پلیٹ فارم حاصل ہوا ہے اور انکو ڈیویلپمینٹ اور اپنی عالمی ساکھ بنانے کے حوالے سے اہم ترین پلیٹ فارم حاصل ہو اہے، اس حوالے سے چائینہ کمیونیکیشنز اینڈ کنسٹرکشن کمپنی کے نائب صدرسن زیو کا کہنا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام اور منسلک منصوبوں کی وجہ سے انکی کمپنی کو عالمی سطع پر اور بالخصوص بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک ممالک میں تعمیرات کے حوالے سے ڈیویلپمینٹ کے کثیر مواقع حاصل ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ انکی کمپنی کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور حالیہ چند سالوں میں انکی کمپنی کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح20بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے قبل انکی کمپنی کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح 500ملین یوآن تک محدود تھی، انہوں نے واضح کیا کہ چائینہ کمیونیکیشنز اینڈ کنسٹرکشن کمپنی بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے منسلک ممالک میں 400مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے، اسی طرحCOSCOکے نائب جنرل مینجریؤ شینگزانگ کا کہنا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے انکی کمپنی کو وسعت اور غیر ملکی پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائریوس بندرگاہ بحیرہ روم کے قلب میں واقع ہے، جس کی وجہ سے انہیں وسطی اور مشرقی یورپ تک پہنچنے کا ایک بہتر اور قلیل راستہ مہیسر ہوگا، اور ریلوے نیٹ ورک کے قیام کے بعد انہیں لاجسٹکس کی لاگت میں نمایاں فاہدہ ہوگا، چینی کمپنیز غیر ملکی پراجیکٹس کے حوالے سے جن بنیادی عوامل کو مدنظر رکھتی ہیں ان میں اپریشن فعالیت، موحولیاتی تحفظ کے بچاؤ کے عوامل اورمقامی سطع پر زمہ داریوں کی ادائیگی شامل ہے، یؤ نے مزید کہا کہ اس بڑی بندرگاہ کو فعال بنانے کے حوالے سے چینی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے صرف پندرہ لوگ انتظامی امورکے حوالے سے بھیجے گئے اور پورٹ پر کام کرنے والے تین ہزار لوگ مقامی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، اسی طرح ممباسہ۔ نیروبی ریلوے نیٹ ورک کے قیام کے حوالے سے جو جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے بہت اہم تھا یہاں پر جنگلی حیات اور بالخصوص زرافوں کو بہترین ماحول فراہم کیا گیا ہے، تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو، انہوں نے کہا کہ اس طرح ک اقدامات سے کہ جیسے جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کمپنی نے اضافی لاگت کے اخراجات برداشت کیئے انکی کمپنی کی عالمی ساکھ میں اضافے کا باعث ہے، چین کا تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سلکِ روڈ اکنامک بیلٹ سے متعلق ہے جو 21ویں صدی کے میری ٹائم سلکِ روڈ پر مشتمل ہے اور اس منصوبے سے قدیمی سلکِ روٹ جو ایشیا افریقہ اور یورپ سے گزرتا تھا ا اس روٹ پر جدید انفراسٹرکچر تعمیر کر کے ان براعظموں کو منسلک کیا جائیگا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں