41

چینی صدر شی جنپگ کی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون فورم پر اعلی سطعی عملی تعاون کی استدعا

(خصوصی رپورٹ):۔ چینی صدر شی جنپگ نے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون فورم میں شریک شرکاء اور اقتصادی قوتوں سے استدعا کی ہے کہ تمام رکن ممالک باہمی تجارتی و اقتصادی تعاون کو اعلی پیمانے پر فروغ اور تسلسل کو یقینی بنائیں اور باہمی تعاون اور اعتماد سازی کو عالمی معیشت کی مضبوطی کے پیشِ نظر مربوط انداز میں یکساں فوائد اور عوامل کو ساتھ لیکر چلیں، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسیفک کے ممالک کے لیے چین کی جانب سے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے معاشی و تجارتی ڈیویلپمینٹ کے کثیر مواقع پیدا ہونگے، یوں باہمی تعاون کے فروغ سے یہ ممالک خوشحالی اور ڈیویلپمیٹ کے حوالے سے بہت سے مواقع حاصل کر سکتے ہیں، اس ضمن میں اقتصادی گلوبلائزیشن اور معاشی انضمام کے عوامل کو مدنظر رکھ کر چینی صدر شی جنپگ نے خطے کی تمام اقتصادی قوتو ں کو استدعا کی ہے کہ باہمی و عملی تعاون کو فروغ دیں، چینی صدر شی جنپگ نے گزشتہ ہفتے پا پوا یؤگنیا کے دارلحکومت پورٹ مورس بے میں منعقدہ26ویں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاو ن فورم میں شریک ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا پیسفک ممالک باہمی تجارتی و اقتصادی تعاو ن کے فروغ کو یقینی بنائیں، انہوں نے کہا کہ خطے کی تمام معاشی قوتیں باہمی تجارتی انضمام کو یقینی بنائیں، تاکہ ایشیا پیسیفک ریجن میں آزادانہ معیشت اور آزادانہ تجارت کو فروغ حاصل ہو، صدر شی جنپگ نے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاو ن کے حوالے سے تمام رکن ممالک سے یہ بھی استدعا کی کہ باہمی تعاو ن کیساتھ ساتھ باہم مربوط ڈیویلپیمنٹ تسلسل کو بھی یقنی بنائیں، اور ممکنہ چیلنجز کو مشترکہ انداز میں حل کرنے کی سعی کریں، بیجنگ میں قائم چائینہ نیشنل کمیٹی برائے پیسیفک اقتصادی تعاون کے چیرمین دوء گوئے نے کہا کہ پاپوا نیو گیگا میں شریک تمام اقتصادی قوتیں باہم منضمم ہیں، اور آزادانہ حیثیت سے ایک دوسرے کے مفادات یقینی بناتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈیویلپمنٹ ہر ملک کا حق ہے، اور ایک ملک کے مفادات کے پیشِ نظر دوسرے ممالک کے مفادات کو در نہیں کیا جا سکتا، اور یہ ہی وہ بنیادی عوامل ہیں ج کی بناء پرمستقبل میں اقتصادی گلوبلائزیشن کو یقینی بنایا جس سکے گا، چین نے گزشتہ چند عشروں میں ملکی اور بین الاقوامی سطع پر کشادگی پر مبنی پالیسز کے تسلسل کے لیے مربوط کوشش کی ہے، جس سے آزادانہ تجارت کے فروغ کے حوالے سے ملکی سطع پر ایک بہتر اور سازگار ماحول تشکیل ہو رہا ہے، چینی ایکیڈیمی آف سوشل سائسز برائے تجارت و اقتصادی تعاو ن کے ریسرچر بائی مگ نے کہا کہ چینی حکومت ملکی اور بین الاقوامی سطع پر کشادگی کے فروغ کے حوالے سے مثبت انداز میں کوشاں ہے، انہوں نے کہا کہ جنوبی پیسیفک ممالک رقبے میں چھوٹے ہیں اور باہمی تعاون اور عملی معاونت سے یہ ممالک ایک دوسرے کے عوامل اور مشترکہ ڈیویلپمٹ کو بہتر انداز میں استوار کر رہے ہیں، یہ ممالک بہتر تعاون کے فروغ سے ڈیویلپمنٹ کو اپ گریڈ کر سکتے ہیں اور اس حوالے سےBRIایک پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے، انہوں نے کہا بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کی مدد سے اس خطے خصوصی طور پر ایشیا پیسیفک کے ممالک کو باہمی تعاون کے حوالے سے ایک مثبت پلیٹ فارم حاصل ہوگا، موجودہ عالمی تناظر کے حوالے سے ایشیا پیسیفک اقتصادی فورم کے ممالک کو ایک زمہ دار انداز میں آگے بڑھنا ہوگا اس حوالے سے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہؤا چوننگ نے کہا کہ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون آج ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے جہاں پر رتمام رکن ممالک کو زمہ درانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اور اسی صورت ایشیا پیسیفک کو ڈیویلپمینٹ کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، چینی وزارتِ خارجہ کا ترجمان ایک ایسا وقت سامنا آیا ہے جب ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون سمٹ پر سربراہی اجلاس کے حوالے سے امریکی نائب صدر مائیک پینئس نے کہا کہ چین پیسیفک ممالک پر قرضوں کے ڈھیر بنا رہا ہے اور پیسیفک جزیروں کے ممالک کو چین قرضوں کے جال میں پھنسا رہا ہے، ان الزامات کو رد کرتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کے اعلی عہدیدار وانگ جیاؤلانگ نے کہا کہ ایشیا پیسفیک یا کسی بھی خطے کا کوئی ملک چین کے تعاون کے حوالے سے کسی قسم کے قرضوں کے جال میں نہیں پھنسایا جا رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ چین دو طرفہ مفادات کے تحت تعاون کو فروغ دے رہا ہے اور اس حوالے سے چین کسی بھی ملک میں قرضوں سے متعلق سرمایہ کاری پر یقینی نہیں رکھتا، چین باہمی مفادات پر یقینی رکھتا ہے، کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے وانگ نے کہا کہ چین خطے میں کسی قسم کے غیر ضروری اثرورسوخ پیدا کرنے کا خواہاں نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ چین ایک ترقی پزیر ملک ہے اور خطے میں موجود ترقی پزیر ممالک کو ساتھ ملا کر چین مشترکہ ڈیویلپمینٹ کو یقینی بنانا چاہتا ہے، اسی حوالے سے چین خطے کے ترقی پزیر ممالک میں انفرا سٹرکچر کی تعمیرات کو ترجیع بنیادوں پر استوار کر رہا ہے، اور انہی عوامل کو مدنظر رکھ کر چین ان ممالک میں لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف شعبوں میں ڈیویلپمینٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے، وانگ نے امریکی نائب صدر کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے خطے کے کسی بھی ملک کے سیاسی معاملات میں کبھی دخل اندازی کی کوشش نہیں کی ہے، اسی تناظر میں بات کرتے ہؤے پاپوا نیو گینا کے ایک سینئر صحافی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چین کے تجارتی اور معاونت کے حوالے سے امور پر فخر ہے، انہوں نے کہا کہ انکے ملک کے عوام کا معیارِ زندگی چینی ڈیویلپمینٹ پلان سے بہتر ہو رہا ہے اور ان کے ملک میں صحت اور تعلیم کے شعبے خصوصی طور پر چین کی معاونت سے بہتری کی جانب گامزن ہیں ، چین جس طرح سے پاپوا نیگینا میں انفرا سٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری ہے اس کے انکے ملک کی ڈیویلپمنٹ میں مثبت اثرات مرتب ہونگے، ملک میں بہتر انفرا سٹرکچر کی تعمیر سے انکا ملک بہتر انداز میں معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں کامیاب ہوگا، اور انہیں کافی اور پھلوں کی تجارت کے مواقع میسر ہونگے، اس حوالے سے پاپوا نہوگینا کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے بہت امیدیں وابسطہ ہیں جس کی تعمیر سے ملک میں تجارت و سرمایہ کاری کے کئی مواقع پیدا ہونگے، اور چین کے ان عوامل کی مقامی آبادی بہت تعریف سے دیکھتی ہے، چینی ترجمان برائے وزارتِ خارجہ ہوانگ نے کہا کہ مقامی اور بین الاقوامی سطع پر تضادات کو باہم گفت وشنید سے حل کیا جانا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی شے نہیں جسے بات چیت سے حل نہ کیا جا سکے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں